جمعہ 24 جولائی 2026 - 15:47
دفاتر کے کاکروچ

حوزہ/ دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ پارٹی کے ہونے والے احتجاج نے ایک لمحے کے لیے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ اصل کاکروچ کون ہیں؟ یہ بیچارے جو دہلی جنتر منتر پر اپنے حق کا مطالبہ کر رہے ہیں یہ تو انصاف کی آواز بنے ہوئے ہیں کاکروچ تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے ملک کو گٹر بنا دیا ہے کاکروچ تو وہ ہیں جنہوں نے صلاحیتوں کو چاٹ لیا ہے وہ اب یہاں سوال یہ ہے ان میں زیادہ خطرناک کون ؟۔۔ وہ جو گھروں کی دیواروں میں رینگتے ہیں یا وہ جو اداروں اور دفاتر کی دیواروں کے اندر بستیاں آباد کر لیتے ہیں؟

تحریر: مولانا سید نجیب الحسن زیدی

حوزہ نیوز ایجنسی | کاکروچ صرف گٹروں میں نہیں رہتے۔بعض کاکروچ سنگِ مرمر کی عمارتوں میں بھی بستے ہیں۔ وہ اندھیروں میں نہیں، روشنیوں میں چلتے ہیں۔ انہیں تعفن سے نفرت نہیں، بلکہ تعفن ہی انکی ان کی غذا ہے۔ جہاں شفافیت ہو، وہاں وہ زندہ نہیں رہ سکتے؛ لیکن جہاں سفارش، تعلقات، خوشامد اور سازش کی نمی میسر آجائے، وہاں ان کی نسلیں حیرت انگیز رفتار سے بڑھتی ہیں۔

دہلی کے جنتر منتر پر کاکروچ پارٹی کے ہونے والے احتجاج نے ایک لمحے کے لیے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ اصل کاکروچ کون ہیں؟ یہ بیچارے جو دہلی جنتر منتر پر اپنے حق کا مطالبہ کر رہے ہیں یہ تو انصاف کی آواز بنے ہوئے ہیں کاکروچ تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے ملک کو گٹر بنا دیا ہے کاکروچ تو وہ ہیں جنہوں نے صلاحیتوں کو چاٹ لیا ہے وہ اب یہاں سوال یہ ہے ان میں زیادہ خطرناک کون ؟۔۔ وہ جو گھروں کی دیواروں میں رینگتے ہیں یا وہ جو اداروں اور دفاتر کی دیواروں کے اندر بستیاں آباد کر لیتے ہیں؟

دفتر کسی شخص کی سلطنت نہیں ہوتا۔ دفتر ایک امانت ہوتا ہے۔ خاص طور پر وہ دفاتر جو مراجعِ کرام اور ولیِ فقیہ کے نام سے وابستہ ہوں، ان کی حیثیت محض انتظامی مراکز کی نہیں بلکہ ملت کے اعتماد، امید اور خدمت کی علامت کی ہوتی ہے۔ یہاں سے انصاف نکلنا چاہیے، یہاں سے اخلاص کی خوشبو آنی چاہیے، یہاں سے اہل افراد کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے۔ لیکن جب ان مقدس مقامات میں "ادارتی کاکروچ" داخل ہو جائیں تو پھر خوشبو کی جگہ تعفن اور امید کی جگہ مایوسی جنم لینے لگتی ہے۔

افسوس کہ عراق سے ایران اور ایران سے ہندوستان تک بعض دفاتر ایک خاموش بیماری میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں بعض ایسے لوگ برسوں سے قابض ہیں جن کے پاس نہ علم کی روشنی ہے، نہ فکر کی وسعت، نہ منصوبہ سازی کی صلاحیت اور نہ ہی ملت کے مستقبل کا کوئی درد۔ ان کی پوری قابلیت صرف اتنی ہے کہ وہ تعلقات کی سیڑھیاں چڑھنا جانتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ کس دروازے پر کتنی دیر کھڑا رہنا ہے، کس کے سامنے کب سر جھکانا ہے، کس کی تعریف میں مبالغہ کرنا ہے اور کس کے خلاف خاموشی سے زہر گھولنا ہے۔

یہ لوگ کبھی میدانِ علم میں کوئی نقش نہیں چھوڑ پاتے کچھ حاصل کیا تو چھوڑیں بس کاکروچوں کی طرح مونچھوں پر تاو دینا جانتے ہیں وہ بھی سلفی لیکر یہ تعلقات کے کھیل میں ہمیشہ کامیاب رہتے ہیں۔ ایک طالب علم برسوں کتابوں سے جڑا رہتا ہے در در کی خاک چھانتا ہے، تحقیق کرتا ہے، معاشرے میں کام کرتا ہے، اپنی شخصیت بناتا ہے، مگر جس مقام تک وہ دہائیوں کی محنت سے بھی نہیں پہنچ پاتا، وہاں یہ لوگ چند سفارشوں، چند تصویروں اور چند تعلقات کے سہارے پہنچ جاتے ہیں۔

یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ادارے زوال کی طرف سفر شروع کرتے ہیں۔

ان کاکروچوں کا سب سے بڑا خوف باصلاحیت افراد ہوتے ہیں۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ علم، اخلاص اور تجربہ ان کے وجود کے لیے ویسا ہی خطرہ ہے جیسے جراثیم کش دوا کاکروچ کے لیے۔ اس لیے وہ اہل لوگوں کے خلاف محاذ بناتے ہیں۔ کبھی کردار کشی، کبھی بدگمانی، کبھی جھوٹی رپورٹیں، کبھی دروازے بند کرنا، کبھی راستے روکنا، کبھی ایسی جگہوں کے لئے رکاوٹ بننا جہاں صاحبان فکر و نظر ہوتے تو تاریخ میں انکا وجود ثبت ہو جاتا لیکن یہ بغیر اسپرے کے مر جاتے سو انہوں پہلے سے کاکروچوں کے جھنڈ کو کسی یادگار تقریب کا حصہ بنا دیا اور اڈے بچے دیتے پہنچ گئے انڈے بچے دیتے واپس پلٹ گئے یہ کبھی صاحبان صلاحیت کی صلاحیتوں کا قتل اقرباء پروری سے کرتے ہیں توکبھی خاموش بائیکاٹ سے۔ انہیں ہر وہ شخص دشمن دکھائی دیتا ہے جو ادارے کو گٹر بننے سے بچا سکتا ہو

یہ عجیب مخلوق ہے۔ خود کچھ پیدا نہیں کرتی، لیکن پیدا کرنے والوں کو ضرور ختم کرتی ہے۔ خود کوئی نظریہ نہیں دیتی، لیکن نظریہ رکھنے والوں کے راستے میں کانٹے ضرور بچھاتی ہے۔ خود کوئی خدمت انجام نہیں دیتی، مگر خدمت گزاروں کو ناکام بنانے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتی ہے۔

آج قم سے دہلی تک اگر کہیں رنگین قبائیں، چمکتی ردائیں اور مصنوعی وقار کے پردے میں ایسے عناصر اداروں پر مسلط ہیں تو سب سے بڑا نقصان کسی ایک فرد کا نہیں، بلکہ مرجعیت کے وقار کا ہے۔ عوام جب کسی دفتر سے ناامید لوٹتے ہیں تو وہ صرف ایک ملازم سے بدظن نہیں ہوتے، بلکہ ان کے دل میں پورے ادارے کے بارے میں سوال پیدا ہوتے ہیں۔ یہی وہ زخم ہے جسے بھرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔

تاریخ بتاتی ہے کہ بڑی سلطنتیں بیرونی حملوں سے کم اور اندر بیٹھے نااہل محافظوں کی وجہ سے زیادہ تباہ ہوئی ہیں۔ دیواروں میں لگنے والی دیمک ہمیشہ توپوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوئی ہے۔ اداروں کے یہ کاکروچ بھی اسی دیمک کی جدید شکل ہیں۔ یہ خاموشی سے اعتماد کھاتے ہیں، امید چاٹتے ہیں، صلاحیتوں کو نگلتے ہیں اور پھر انہی اداروں کے وفادار ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ صرف عمارتوں کی صفائی کافی نہ سمجھی جائے۔ اصل صفائی نظام کی ہونی چاہیے۔ معیار تعلق نہیں، اہلیت ہو۔ سفارش نہیں، خدمت ہو۔ خوشامد نہیں، دیانت ہو۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مخلص اور اہل افراد کو تحفظ دیا جائے، کیونکہ اداروں کی اصل طاقت عمارتیں نہیں بلکہ کردار ہوتے ہیں۔

اگر آج بھی ذمہ داران نے بروقت فیصلہ نہ کیا تو یہ کاکروچ مزید انڈے دیں گے، مزید جتھے بنائیں گے، مزید باصلاحیت افراد کو نگلیں گے اور آخرکار ایسا تعفن پیدا ہوگا کہ لوگ ان دفاتر کی دہلیز پر قدم رکھنے سے بھی ہچکچائیں گے۔ اس وقت شاید صفائی کی دوائی بھی دیر سے پہنچے۔

اداروں کو دشمنوں سے پہلے ان محافظوں سے بچانے کی ضرورت ہے جو محافظ کے لباس میں قابض بن چکے ہیں۔

کیونکہ جب دفتر خدمت سے خالی ہو جائے تو وہ صرف ایک عمارت رہ جاتا ہے، اور جب عمارت پر کاکروچوں کا قبضہ ہو جائے تو وہاں روشنی نہیں، صرف تعفن جنم لیتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha